7 اپریل 2012 - 19:30

سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں ہزاروں افراد نے حکومت مخالف مظاہرے کرکے سياسي قيديوں کي رہائي کا ايک بار پھر مطالبہ کيا۔

ابنا: يہ مظاہرے قطيف ، عواميہ اور آس پاس کے شہروں ميں کئے گئے. سعودي عرب ميں سرگرم سياسي کارکنوں کا کہنا ہے کہ آل سعود کي جيلوں ميں تيس ہزار سے زائد سياسي قيدي ہيں جو ملک ميں اصلاحات کا مطالبہ کرنے کے جرم ميں اپني زندگي کے دن قيد ميں کاٹ رہے ہيں -

ہيومن رائٹس واچ  نے بھي سعودي حکام سے مطالبہ کيا کہ وہ امن پسند مظاہرين کي بلاسبب گرفتاريوں کا سلسلہ بند کريں اور جو لوگ سياسي سرگرميوں ميں حصہ لينے کے الزام ميں جيلوں ميں بند ہيں انہيں فوري طور پر رہا کريں-

انساني حقوق کي عالمي تنظيموں کا بھي کہنا ہے کہ سعودي عرب کي حکومت  سياسي کارکنوں اور عام شہريوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر انساني حقوق کي خلاف ورزي کررہي ہے - واضح رہے کہ سعودي عرب کے عوام گذشتہ برس فروري سے ملک ميں اصلاحات اور سياسي قيديوں کي رہائي   کے مطالبات کو لے کر مسلسل مظاہرے کررہے ہيں - 

سعودي عرب ميں حکومت مخالف مظاہروں کے آغاز سے اب تک متعدد مظاہرين سيکورٹي فورس کے ہاتھوں مارے جا چکے ہيں, جبکہ دسيوں مظاہرين کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے- سعودي حکومت نے رواں سال کے آغاز کے بعد سے مظاہرين کے خلاف اپنے تشدد آميز اقدامات ميں شدت پيدا کردي ہے ۔.......

/169